ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / دہلی جیسے شہر میں12000روپے کا گزارا الاؤنس بہت زیادہ نہیں ہے

دہلی جیسے شہر میں12000روپے کا گزارا الاؤنس بہت زیادہ نہیں ہے

Fri, 01 Jul 2016 23:11:47    S.O. News Service

عدالت نے شوہرکوبیوی اوربچوں کاخرچ دینے کی ہدایت دی،شوہرکی اپیل مستردکردی
نئی دہلی یکم جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ایک مقامی عدالت نے ایک شخص کو اس سے الگ رہ رہی اس کی بیوی اور بچے کیلئے گھریلو تشدد کیس میں 12000روپے ماہانہ گزارا الاؤنس دینے کا ملے حکم کو یہ کہتے ہوئے مسترد کرنے سے انکار کر دیا کہ یہ رقم دہلی جیسے شہر میں مہنگائی اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر ضرورت سے زیادہ نہیں ہے۔سیشن عدالت نے ڈی ایم آر سی اہلکار کی اپیل مسترد کرتے ہوئے یہ بھی کہاکہ قانونی طور پر بیاہی بیوی اور بچوں کی پرورش شوہرکافرض ہے۔ایڈیشنل سیشن جج رمیش کمار نے کہا کہ عورت اور بچے کیلئے 12000روپے ماہانہ عبوری گزارا الاؤنس کو دہلی جیسے شہر میں مہنگائی اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر ضرورت سے زیادہ نہیں کہا جا سکتا۔عدالت نے کہا کہ قانونی طور پر بیاہی بیوی ہونے کے ناطے مدعاعلیہ(بیوی)اس کی طرف سے پرورش کی مستحق ہے۔اپنی بیوی اور بچے کا بھرپوش کرنا شوہر کا فرض ہے۔غازی آباد رہائشی انل کمار نے یہ کہتے ہوئے اپیل دائر کی تھی کہ نچلی عدالت نے فیصلہ سناتے وقت ان کے بوجھ اورواجبات کا خیال نہیں کیا۔استغاثہ کے مطابق شکایت کنندہ نے اپنے شوہر انل اور سسرل والوں کے خلاف جہیز ظلم و ستم کی شکایت کرائی تھی اور نچلی عدالت نے انل کے سیلری سلپ پر غور کرنے کے بعد انہیں بیوی کو 12000روپے ماہانہ گزاراالاؤنس دینے کی ہدایت دی تھی۔نچلی عدالت نے انل کو بقایا رقم چھ ماہ میں دینے کو بھی کہاتھا۔


Share: